26 اکتوبر 2011 - 20:30

مجلس وحد ت المسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور ممتاز عالم دین علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہامت مسلمہ میں وحدت اخوت اور بھائی چارے کا فروغ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے بنیادی اہداف ہیں،

ابنا: ایم ڈبلیو ایم کی تشکیل کے ڈیڑھ سال کے مختصر عرصہ میںہم اپنے اہداف کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیںاور ہمیں توقع سے زیادہ کامیابی ملی ہے ،انہوں نے ان خیالات کا اظہار ڈنگہ میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ اس موقع پرایم ڈبلیو ایم پنجاب کےڈپٹی سیکرٹری علامہ اصغر عسکری اور گجرات کے ضلعی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر علامہ تنویر حیدر رضوی بھی موجود تھے ، علامہ امین شہیدی نے کہا کہ اب تک چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے104اضلاع میںمجلس وحدت مسلمین کا سڑکچر مضبوط بنا چکے ہیں، ہمارے پہلے سالانہ اجتماع میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی جو ہماری کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے، انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے مختلف حصوں میں استحکام پاکستان کانفرنس اور ہماری ذمہ داریاں کے عنوان سے کانفرنسز کا انعقا د کر رہے ہیں، جن میں مختلف مسالک کے افراد شرکت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم مظلوموں کا ساتھ دیں گے، ظالموں کیخلاف عملی طور پر ا قدامات کرینگے، مظلوموں کی مدد کرنا ہمارا دینی اور فطری تقاضا ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں سنی شیعہ کی کوئی لڑائی نہیں ہے، صرف ملک دشمن عناصر ہمیں آپس میں لڑا رہے ہیں، بلوچستان میں بھی کسی قسم کی کوئی لڑائی نہیں صرف سی آئی اے کی جنگ کا مسئلہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت رفاعی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے،35کروڑ سے سیلاب زدگان کی امداد کی ہے، بلوچستان اور سندھ میں سیلاب کی زد میں آنیوالے بے گھروں کیلئے سو سو اور پنجاب میں دو سو گھر تعمیر کرا رہے ہیں، اگلے قدم میں میں700گھر تعمیر کرینگے، اور اڑھائی سو مساجد بنائیں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وحدت بین المسلمین کیلئے ہم نے جماعت اسلامی، مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمن، علامہ ساجد نقوی، سنی تحریک، جماعت الدعوة، منہاج القرآن سمیت دیگر دینی وسیاسی اور رفاعی تنظیموں سے ملاقاتیں کی ہیں، انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانیوں کے اتحاد سے پاکستانی مشکلات کا خاتمہ ہوگا اور امن وامان قائم ہوگا انہوں نے کہا کہ جب تک موجودہ سیاسی نظام قائم ہے ہماری جماعت سیاست میں حصہ نہیں لے گی، بلکہ فطری، قلبی اور اندرونی تبدیلی کیلئے کام کریگی، اللہ کے عادلانہ نظام کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، آزادانہ، شفافانہ انتخابات ہوئے تو ضرور حصہ لینگے، مگر پاکستان میں موجودہ سیاسی نظام کے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات ممکن نہیں، پاکستان آئی ایم ایف اور امریکی ایجنسیوں کے چنگل میں بری طرح پھنسا ہوا ہے، ہمارے انتخابات کنٹرولڈ ہوتے ہوئے پہلے ہی تمام سیٹ اپ طے کر لیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ دربار مقدس جگہ ہوتے ہیں جہاں اولیاء مدفن ہوتے ہیں ان کو شہید کرنا ناقابل مذمت ہے اگر کسی اعتراض ہے تو وہ اپنے مسلک کے اندر رہ کر اعتراض کرے اگر باہر نکلے گا تو یہ تخریب کاری ہوگی، کسی کو اپنا مسلک دوسرے پر نہیں تھوپنا چاہیے، اگر ایسا کیا جائے گا تو ملک ابتری اورمشکلات کا شکار ہوگا، انہوں نے کہا کہ جو اپنے عقائد دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہے میں کہوں گاکہ وہ ایجنٹ ہیں، اپنے مسلک پر قائم رہو دوسرے کو چھیڑو نہ، ممتاز قادری کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ثابت نہیں ہے کہ سلمان تاثیر نے گستاخی کی ہے بالغرض ثابت بھی ہوجائے تو پہلے فتویٰ ہوتا ہے اس کے بعد کارروائی ہوتی ہے، اس سلسلے میں قانون موجود ہے، اگر کوئی قانون کو اس طرح ہاتھ میں لے لے تو اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی، ا گر کوئی قانون کو ایک طرف رکھ کر اپنی خواہشات پر گن ا ٹھائے گا تو معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہوگا، انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کا قانون موجود ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس کا غلط استعمال کیاجارہا ہے، کئی بے گناہ افراد کو اس قانون کے تحت قتل کردیا گیا، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے بارے میں فتویٰ دینے والوں کا کہیں اور لنک ہے جو ملک میں ابتری چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ توہین رسالت ۖ اگر صحیح معنوں میں ثابت ہوجائے تو اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں اگر کوئی اپنی مرضی سے گن اٹھا لے تو اس کاساتھ نہیں دیا جاسکتا۔

..........

/169